سرسی 6/جولائی (ایس او نیوز)کاروار میں کرایے کی گاڑیوں کے ٹینڈرپا س ہونے کا لیٹرآف انٹینڈ (ایل او آئی) دینے کے لئے رشوت طلب کرنا ہیسکام کے افسراور عملے کو بھاری پڑا اور وہ اینٹی کرپشن بیوریو کے جال میں پھنس گئے۔
اے سی بی کے جال میں پھنسنے والوں کی شناخت ایکزیکٹیو انجینئراو ایس ششی دھراورلائن مین ناگراج کے طور پر کی گئی ہے۔ موصولہ رپورٹ کے مطابق سال 2019-20کے لئے کاروار ہیسکام کے سرکل آفس اور ایکزیکٹیوانجینئرکے لئے درکارکرایے کی موٹر گاڑیوں کا ٹینڈر طلب کیاگیا تھا۔چونکہ سرسی کے ہی رہنے والے رتناکر نائک نامی صرف ایک شخص نے ٹینڈر داخل کیاتھا اس لئے بڑی آسانی سے اسی کے نام ٹینڈر منظور ہواتھا۔ مگر اس منظوری کی دفتری طور پر تحریری اطلاع(ایل او آئی) دینے کے لئے ہیسکام انجینئر نے رتناکر 5ہزار ورپے رشوت طلب کی۔
ہیسکام انجینئر کی جانب سے رشوت طلب کیے جانے کی شکایت رتناکر نے اے سی بی کو تحریری طور پر دی۔ پھر اس کے بعد ڈی وائی ایس پی گریش کی قیادت میں اے سی بی کی ٹیم نے چھاپہ مار کر ملزمین کو گرفتار کرلیا۔